السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: العامل على الصدقة يأخذ منها بقدر عمله وإن كان موسرا باب: صدقہ وصول کرنے والا اس میں سے اپنے کام کے بقدر حصہ لے گا خواہ وہ مالدار ہو
حدیث نمبر: 13166
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ لِغَارِمٍ، أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ رَجُلٍ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ، فَتَصَدَّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ فَأَهْدَى الْمِسْكِينُ لِلْغَنِيِّ " أَرْسَلَهُ مَالِكٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَأَسْنَدَهُ مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کسی مال دار کے لیے صدقہ جائز نہیں ہے مگر پانچ مال دار بھی صدقہ لے سکتے ہیں: (1) غازی فی سبیل اللہ، (2) عامل (صدقہ لینے والا)، (3) چٹی والا آدمی، (4) کسی آدمی نے اپنے پیسوں سے صدقہ کی چیز خریدی ہو، (5) کسی آدمی کا پڑوسی غریب تھا، اس نے اس کو صدقہ کیا، پھر اس غریب آدمی نے صدقہ کرنے والے کو ہدیہ دے دیا۔“