السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: ما يستدل به على أن الفقير أمس حاجة من المسكين باب: اس بات پر استدلال کا بیان کہ فقیر مسکین کی نسبت زیادہ حاجت مند ہوتا ہے
وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ يَقُولُ: " اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهَذَا حَدِيثٌ ثَابِتٌ قَدْ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا اسْتَعَاذَ مِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ دُونَ حَالِ الْفَقْرِ، وَمَنْ فِتْنَةِ الْغِنَى دُونَ حَالِ الْغِنَى، وَأَمَّا قَوْلُهُ إِنْ كَانَ قَالَهُ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا، فَهُوَ إِنْ صَحَّ طَرِيقُهُ وَفِيهِ نَظَرٌ وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ أَنَّهُ حَالُهُ عِنْدَ وَفَاتِهِ أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْ حَالَ الْمَسْكَنَةِ الَّتِي يَرْجِعُ مَعْنَاهَا إِلَى الْقِلَّةِ، وَإِنَّمَا سَأَلَ الْمَسْكَنَةَ الَّتِي يَرْجِعُ مَعْنَاهَا إِلَى الْإِخْبَاتِ وَالتَّوَاضُعِ، فَكَأَنَّهُ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ اللهَ تَعَالَى أَنْ لَا يَجْعَلَهُ مِنَ الْجَبَّارِينَ الْمُتَكَبِّرِينَ، وَأَنْ لَا يَحْشُرَهُ فِي زُمْرَةِ الْأَغْنِيَاءِ الْمُتْرَفِينَ قَالَ الْقَعْنَبِيُّ: وَالْمَسْكَنَةُ حَرْفٌ مَأْخُوذٌ مِنَ السُّكُونِ يُقَالُ: تَمَسْكَنَ الرَّجُلُ إِذَا لَانَ وَتَوَاضَعَ وَخَشَعَ وَمِنْهُ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُصَلِّي: " تَيَأَّسْ وَتَمَسْكَنْ " يُرِيدُ تَخَشَّعَ وَتَوَاضَعَ لِلَّهِ.(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ پناہ مانگتے تھے، فرماتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ» ”اے اللہ! میں آگ کے فتنے سے، قبر کے فتنے اور قبر کے عذاب سے، اور غنیٰ کے فتنے کے شر اور فقر کے فتنے کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! میں دجال کے فتنے کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں“۔
(ب) یہ حدیث ثابت ہے، اسے بخاری و مسلم دونوں نے صحیح میں روایت کیا ہے، اور اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ آپ ﷺ نے صرف فقر کے فتنے سے پناہ مانگی نہ کہ فقر کی حالت سے، اور غنیٰ کے فتنے سے پناہ مانگی نہ کہ غنیٰ کی حالت سے۔
(ج) رہا آپ ﷺ کا یہ کہنا، اگر آپ نے فرمایا ہو: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا» ”مجھے مسکین زندہ رکھنا اور مجھے موت مسکین کی حالت میں دینا“ تو اگر اس کی سند صحیح ہو، اور اس میں نظر ہے، تو آپ ﷺ کی حالت جو وفات کے وقت تھی، اس پر دال ہے کہ آپ ﷺ نے اس مسکینی کا سوال نہیں کیا جس کا معنی قلت ہے بلکہ جس سے مراد عجز و انکساری اور تواضع ہے اس کا سوال کیا، گویا آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ آپ ﷺ کو ظالم متکبر لوگوں میں سے نہ کرے اور نہ قیامت کے دن سرکش اغنیا میں اٹھائے۔
قعنبی کہتے ہیں: مسکنت کا لفظ سکون سے ماخوذ ہے، کہا جاتا ہے: «تَمَسْكَنَ الرَّجُلُ» جب آدمی نرم ہو جائے، تواضع اختیار کرے اور عاجزی کرے، اور اسی سے نبی ﷺ کا نمازی سے یہ فرمان ہے: «تَبَأَّسْ وَتَمَسْكَنْ» یعنی اللہ کے لیے عاجزی اور تواضع اختیار کر۔