السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: ما يستدل به على أن الفقير أمس حاجة من المسكين باب: اس بات پر استدلال کا بیان کہ فقیر مسکین کی نسبت زیادہ حاجت مند ہوتا ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْمُظَفَّرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَلَوِيُّ، رَحِمَهُ اللهُ أنبأنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاتِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنَانِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا، وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا، وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " لِأَنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا يَا عَائِشَةُ لَا تَرُدِّي الْمِسْكِينَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ يَا عَائِشَةُ أَحِبِّي الْمِسَاكِينَ وَقَرِّبِيهِمْ، فَإِنَّ اللهَ يُقَرِّبُكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " قَالَ أَصْحَابُنَا: فَقَدِ اسْتَعَاذَ مِنَ الْفَقْرِ وَسَأَلَ الْمَسْكَنَةَ، وَقَدْ كَانَ لَهُ بَعْضُ الْكِفَايَةِ يَدُلُّ ⦗١٩⦘ عَلَى أَنَّ الْمِسْكِينَ مَنْ لَهُ بَعْضُ الْكِفَايَةِ " قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اسْتَعَاذَ مِنَ الْمَسْكَنَةِ وَالْفَقْرِ، فَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ اسْتِعَاذَتُهُ مِنَ الْحَالِ الَّتِي شَرَّفَهَا فِي أَخْبَارٍ كَثِيرَةٍ، وَلَا مِنَ الْحَالِ الَّتِي سَأَلَ أَنْ يُحْيَى وَيُمَاتَ عَلَيْهَا، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ مَسْأَلَتُهُ مُخَالِفَةً لِمَا مَاتَ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَدْ مَاتَ مَكْفِيًّا بِمَا أَفَاءَ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَوَجْهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عِنْدِي، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ اسْتَعَاذَ مِنْ فِتْنَتِهِ الْفَقْرِ وَالْمَسْكَنَةِ اللَّذَيْنِ يَرْجِعُ مَعْنَاهُمَا إِلَى الْقِلَّةِ كَمَا اسْتَعَاذَ مِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! مجھے مسکینوں کے ساتھ زندہ رکھنا اور میری موت بھی مسکینوں کے ساتھ آئے اور قیامت والے دن مجھے اٹھانا بھی مسکینوں کے ساتھ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کس لیے اے اللہ کے نبی ﷺ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیونکہ یہ لوگ امیر لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ اے عائشہ! کسی مسکین کو نہ موڑ اگرچہ آدھی ہی کھجور کیوں نہ ہو، اے عائشہ! مسکینوں سے محبت کر اور ان کے قریب ہو، بیشک اللہ تعالیٰ قیامت والے دن تجھے اپنے قریب کرے گا۔“
(ب) ہمارے اصحاب کہتے ہیں: آپ ﷺ نے فقر سے پناہ مانگی اور مسکینی کا سوال کیا۔ آپ ﷺ کے پاس گزر بسر کے لیے کچھ ہوتا جو کفایت کرے، یہ اس پر دلالت ہے کہ مسکین وہ ہے جس کے پاس کفایت کے لیے تھوڑا مال ہو۔
(ج) شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی جو روایت ہے کہ آپ ﷺ نے مسکینی اور فقر سے پناہ مانگی تو (اس سے یہ مراد لینا) جائز ہے کہ پناہ اس شرف والی حالت سے مانگی جائے جس کا ذکر اکثر احادیث میں ہے اور یہ وہ حالت جس میں اللہ سے اس پر زندگی اور موت کا سوال ہے اور یہ جائز نہیں کہ آپ ﷺ کا سوال کرنا آپ ﷺ کی اس حالت کے مخالف ہے جس پر آپ فوت ہوئے، آپ کو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا جو آپ ﷺ کو کفایت کرتا تھا۔ میرے نزدیک ان احادیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے فقر اور مسکینی کے فقر سے پناہ مانگی یعنی قلت سے پناہ مانگی جیسا کہ غنی کے فتنہ سے پناہ مانگی۔ واللہ اعلم۔