❮
❯
حدیث نمبر: 13152
وَحَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْمُظَفَّرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَلَوِيُّ، رَحِمَهُ اللهُ أنبأنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاتِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنَانِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا، وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا، وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " لِأَنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا يَا عَائِشَةُ لَا تَرُدِّي الْمِسْكِينَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ يَا عَائِشَةُ أَحِبِّي الْمِسَاكِينَ وَقَرِّبِيهِمْ، فَإِنَّ اللهَ يُقَرِّبُكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " قَالَ أَصْحَابُنَا: فَقَدِ اسْتَعَاذَ مِنَ الْفَقْرِ وَسَأَلَ الْمَسْكَنَةَ، وَقَدْ كَانَ لَهُ بَعْضُ الْكِفَايَةِ يَدُلُّ ⦗١٩⦘ عَلَى أَنَّ الْمِسْكِينَ مَنْ لَهُ بَعْضُ الْكِفَايَةِ " قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اسْتَعَاذَ مِنَ الْمَسْكَنَةِ وَالْفَقْرِ، فَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ اسْتِعَاذَتُهُ مِنَ الْحَالِ الَّتِي شَرَّفَهَا فِي أَخْبَارٍ كَثِيرَةٍ، وَلَا مِنَ الْحَالِ الَّتِي سَأَلَ أَنْ يُحْيَى وَيُمَاتَ عَلَيْهَا، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ مَسْأَلَتُهُ مُخَالِفَةً لِمَا مَاتَ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَدْ مَاتَ مَكْفِيًّا بِمَا أَفَاءَ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَوَجْهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عِنْدِي، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ اسْتَعَاذَ مِنْ فِتْنَتِهِ الْفَقْرِ وَالْمَسْكَنَةِ اللَّذَيْنِ يَرْجِعُ مَعْنَاهُمَا إِلَى الْقِلَّةِ كَمَا اسْتَعَاذَ مِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! مجھے مسکینوں کے ساتھ زندہ رکھنا اور میری موت بھی مسکینوں کے ساتھ آئے اور قیامت والے دن مجھے اٹھانا بھی مسکینوں کے ساتھ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کس لیے اے اللہ کے نبی ﷺ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیونکہ یہ لوگ امیر لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ اے عائشہ! کسی مسکین کو نہ موڑ اگرچہ آدھی ہی کھجور کیوں نہ ہو، اے عائشہ! مسکینوں سے محبت کر اور ان کے قریب ہو، بیشک اللہ تعالیٰ قیامت والے دن تجھے اپنے قریب کرے گا۔“
(ب) ہمارے اصحاب کہتے ہیں: آپ ﷺ نے فقر سے پناہ مانگی اور مسکینی کا سوال کیا۔ آپ ﷺ کے پاس گزر بسر کے لیے کچھ ہوتا جو کفایت کرے، یہ اس پر دلالت ہے کہ مسکین وہ ہے جس کے پاس کفایت کے لیے تھوڑا مال ہو۔
(ج) شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی جو روایت ہے کہ آپ ﷺ نے مسکینی اور فقر سے پناہ مانگی تو یہ جائز نہیں کہ آپ ﷺ نے اس حالت سے پناہ مانگی ہو جس کا شرف آپ ﷺ نے بہت سی احادیث میں بیان کیا ہے، اور نہ اس حالت سے جس پر آپ ﷺ نے زندگی اور موت کا سوال کیا ہے، اور یہ بھی جائز نہیں کہ آپ ﷺ کا سوال آپ ﷺ کی اس حالت کے مخالف ہو جس پر آپ فوت ہوئے، آپ ﷺ اس مال کے ساتھ کفایت کی حالت میں فوت ہوئے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا تھا۔ میرے نزدیک ان احادیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فقر اور مسکینی کے فتنے سے پناہ مانگی جن کا معنی قلت کی طرف لوٹتا ہے، جیسا کہ غنیٰ کے فتنے سے پناہ مانگی۔ واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13152
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»