السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: الأغلب على أفواه العامة أن في الثمر العشر، وفي الماشية الصدقة، وفي الورق الزكاة، وقد سمى رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا كله صدقة باب: عوام کی زبانوں پر زیادہ تر یہ ہے کہ پھلوں میں عشر، مویشیوں میں صدقہ اور چاندی میں زکوٰۃ ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ان سب کا نام صدقہ رکھا ہے
حدیث نمبر: 13124
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ قَالَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ، فَيَتْرُكُ غَنَمًا أَوْ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا، إِلَّا جَاءَتْهُ أَعْظَمَ مَا تَكُونُ وَأَسْمَنَ، تَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ ثُمَّ يَعُودُ أُولَاهَا عَلَى أُخْرَاهَا " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، فَسُمِّيَ الْوَاجِبُ فِي الْمَاشِيَةِ زَكَاةً.حافظ ثناء اللہ
ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا، پھر اس حدیث کو ذکر کیا جس میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ”جو آدمی فوت ہو گیا اور اس نے بکریاں چھوڑیں یا اونٹ چھوڑے یا گائیں چھوڑیں جن کی اس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی تھی، تو وہ اس آدمی کے پاس موٹے تازے ہو کر آئیں گے اور اپنے کھروں کے ساتھ اس آدمی کو روندیں گے اور اپنے سینگوں کے ساتھ اس کو ماریں گے، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا، پھر ان (جانوروں) کا پہلا (جانور) آخری پر دوبارہ لوٹے گا (یعنی جب آخری جانور گزر جائے گا) تو پہلا پھر آ جائے گا۔“