حدیث نمبر: 1310
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ فَقُلْتُ: أَبْتَغِي الْعِلْمَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضَاءً بِمَا يَطْلُبُ، قُلْتُ: حَكَّ فِي صَدْرِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَكُنْتُ امْرَأً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ " كَانَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلَّا مِنَ الْجَنَابَةِ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ نَوْمٍ " وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ وَزَادَ فِيهِ مَسْحَ الْمُقِيمُ، قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ قُلْتُ: وَأَيُّ حَدِيثٍ عِنْدَكَ أَصَحُّ فِي التَّوْقِيتُ فِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ: حَدِيثُ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ وَحَدِيثُ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ حَسَنٌ، قَالَ الشَّيْخُ: حَدِيثُ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ أَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ عِنْدَ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ

(الف) زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انھوں نے کہا کہ آپ کس غرض سے آئے؟ میں نے کہا: میں علم کی تلاش میں آیا ہوں، انھوں نے کہا: ”فرشتے طالب علم کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں، اس کی رضا مندی کے لیے جو علم حاصل کرتا ہے“۔ میں نے کہا: قضائے حاجت اور پیشاب کرنے کے بعد موزوں پر مسح کرنے کے متعلق میرے دل میں بات کھٹک رہی ہے اور آپ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ہیں، میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ سے سوال کروں کہ آپ نے اس کے متعلق کچھ سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں! رسول اللہ ﷺ ہم کو حکم دیا کرتے تھے کہ ”جب ہم سفر میں ہوں یا فرمایا مسافر ہوں تو تین دن اور تین راتیں موزے نہ اتاریں، مگر جنابت کے وقت اتار دیں اور قضائے حاجت اور نیند سے نہ اتاریں“۔
(ب) عاصم رحمہ اللہ والی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ مقیم کے مسح کی مدت۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا کہ آپ کے نزدیک موزوں پر مسح کی مدت کی تعیین کے متعلق کون سی روایت زیادہ صحیح ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کی حدیث۔ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث حسن ہے۔ شیخ کہتے ہیں: شریح بن ہانی رحمہ اللہ کی روایت جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس باب میں نقل کی گئی ہے وہ امام مسلم رحمہ اللہ کے ہاں زیادہ صحیح ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1310
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»