السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما يكون للوالي الأعظم ووالي الإقليم من مال الله، وما جاء في رزق القضاة وأجر سائر الولاة باب: خلیفہ اعظم اور صوبائی گورنر کے لیے اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کیا جائز ہے، اور قاضیوں کی تنخواہ اور دیگر حاکموں کے معاوضے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13025
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالْقُسَامَةَ "، قَالُوا: وَمَا الْقُسَامَةُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " الرَّجُلُ يَكُونُ عَلَى الْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ فَيَأْخُذُ مِنْ حَظِّ هَذَا وَحَظِّ هَذَا ".حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قسامہ سے بچو۔“ انھوں نے پوچھا: قسامہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی لوگوں کی ایک جماعت میں ہو، پھر وہ ادھر سے بھی حصہ لے لے اور ادھر سے بھی لے لے۔“