السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما يكون للوالي الأعظم ووالي الإقليم من مال الله، وما جاء في رزق القضاة وأجر سائر الولاة باب: خلیفہ اعظم اور صوبائی گورنر کے لیے اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کیا جائز ہے، اور قاضیوں کی تنخواہ اور دیگر حاکموں کے معاوضے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13023
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حِرْمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ، وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى بَيْتِ اللهِ، يَقُولُ: " وَاللهِ مَا أَصَبْتُ فِي عَمَلِي هَذَا الَّذِي وَلَّانِي فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا ثَوْبَيْنِ مُعَقَّدَيْنِ كَسَوْتُهُمَا مَوْلَايَ كَيْسَانَ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن ابی مقرب فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے سنا اور وہ بیت اللہ سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا: مجھے جس کام پر رسول اللہ ﷺ نے والی بنایا ہے، میں نے اس سے صرف دو کپڑے حاصل کیے ہیں جو اپنے غلام کو پہنائے ہیں۔