السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: لا يفرض واجبا إلا لبالغ يطيق مثله القتال باب: اس بالغ شخص کے علاوہ جو جنگ کی طاقت رکھتا ہو کسی اور کا باقاعدہ وظیفہ مقرر نہیں کیا جائے گا
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " اجْتَمِعُوا لِهَذَا الْفَيْءِ حَتَّى نَنْظُرَ فِيهِ "، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لَهُمْ بَعْدُ: " إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تَجْتَمِعُوا لَهُ حَتَّى نَنْظُرَ فِيهِ، وَإِنِي قَرَأْتُ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاسَتْغَنَيْتُ بِهِنَّ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى} [الحشر: ٧] إِلَى قَوْلِهِ {شَدِيدُ الْعِقَابِ} [الحشر: ٧]، وَاللهِ مَا هُوَ لِهَؤُلَاءِ وَحْدَهُمْ، ثُمَّ قَرَأَ {لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ} [الحشر: ٨] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ثُمَّ قَرَأَ {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ}، وَاللهِ مَا هُوَ لِهَؤُلَاءِ وَحْدَهُمْ، وَلَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأُلْحِقَنَّ آخِرَ النَّاسِ بِأَوَّلِهِمْ، فَلَأَجْعَلَنَّهُمْ بَبَّانًا وَاحِدًا، يَعْنِي بَاجًا وَاحِدًا "، قَالَ: فَجَاءَ ابْنٌ لَهُ وَهُوَ يَقْسِمُ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ ⦗٥٧٤⦘ لُهَيَّةَ، امْرَأَةٌ كَانَتْ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: اكْسُنِي خَاتَمًا، فَقَالَ لَهُ: " الْحَقْ بِأُمِّكَ تَسْقِيكَ شَرْبَةً مِنْ سَوِيقٍ، فَوَاللهِ مَا أَعْطَاهُ شَيْئًا ".زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس مال فئی کو جمع کرو تاکہ ہم اندازہ لگائیں۔ پھر بعد میں یہی کہا کہ میں نے تم کو حکم دیا ہے، اسے جمع کرو تاکہ ہم اندازہ لگائیں اور میں نے اللہ کی کتاب میں پڑھا ہے، میں ان سے بے پروا ہوں۔ اللہ فرماتے ہیں: ﴿مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الحشر: 7] الی قولہ ﴿شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ [سورة الحشر: 7] اللہ کی قسم! یہ ان اکیلوں کے لیے نہیں ہے، پھر پڑھا: ﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ﴾ [سورة الحشر: 8] پھر پڑھا: ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ [سورة الحشر: 10] اللہ کی قسم! ان کے لیے بھی نہیں اور اگر آئندہ سال میں باقی رہا تو میں ضرور ملاؤں گا آخری لوگوں کو بھی پہلوں سے، پس میں ضرور ان کو ایک ہی قسم بناؤں گا۔ جب وہ تقسیم کر رہے تھے تو ان کا بیٹا آیا، عبدالرحمن بن لہیہ جو عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیوی سے تھا، اس نے کہا: مجھے انگوٹھی پہناؤ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: اپنی ماں سے کہو، وہ تجھے ستو پلائے، اللہ کی قسم! اسے کوئی چیز نہ دی۔