السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: لا يفرض واجبا إلا لبالغ يطيق مثله القتال باب: اس بالغ شخص کے علاوہ جو جنگ کی طاقت رکھتا ہو کسی اور کا باقاعدہ وظیفہ مقرر نہیں کیا جائے گا
حدیث نمبر: 13004
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْخَثْعَمِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ لِلْقِتَالِ، قَالَ: وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمْ يُجِزْنِي، قَالَ: ثُمَّ عَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي " قَالَ نَافِعٌ: فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ إِذْ ذَاكَ خَلِيفَةٌ، فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْحَدَّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ. ثُمَّ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ بِأَنْ يَفْرِضُوا لِمَنْ بَلَغَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَمَا كَانَ دُونَ ذَلِكَ أَنْ يَجْعَلُوهُ مَعَ الْعِيَالِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن ان کو لڑنے کے لیے بلایا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں چودہ برس کا ہوں، پس آپ ﷺ نے مجھے اجازت نہ دی، پھر خندق کے دن بلایا میں نے کہا: میں پندرہ برس کا ہوں، آپ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس آیا، جب وہ خلیفہ تھے، میں نے یہ حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: یہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان حد ہے، پھر اپنے عاملوں کو لکھا کہ اس کے لیے حصہ مقرر کرو جو پندرہ برس کا ہے اور جو اس کے علاوہ ہو اسے گھر والوں سے ملا دو۔