السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: التسوية بين الناس في القسمة باب: تقسیم میں لوگوں کے درمیان برابری کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12987
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَلِيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَسَمَ بَيْنَ النَّاسِ بِالسَّوِيَّةِ، فَقِيلَ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ لَوْ فَضَّلْتَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ، فَقَالَ: " أَشْتَرِي مِنْهُمْ شِرًى، فَأَمَّا هَذَا الْمَعَاشُ فَالْأُسْوَةُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْأَثَرَةِ ".حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ والی بنے، آپ نے لوگوں میں برابری سے تقسیم کی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: اے خلیفہ رسول اللہ ﷺ! اگر آپ مہاجرین اور انصار کو فضیلت دیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے فضل کو جانتا ہوں، پس رہا یہ معاش تو اس میں اسوہ ترجیح سے بہتر ہے۔