السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: من قال: يقسم للحر والعبد باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا: آزاد اور غلام دونوں کے لیے تقسیم کیا جائے گا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٥٦٦⦘ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَلِيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ السَّنَةَ الْأُولَى، فَقَسَمَ بَيْنَ النَّاسِ بِالسَّوِيَّةِ، فَأَصَابَ كُلَّ إِنْسَانِ عَشْرَةُ دَرَاهِمَ، ثُمَّ قَسَمَ السَّنَةَ الثَّانِيَةَ، فَأَصَابَهُمْ عِشْرُونَ دِرْهَمًا، وَفَضَلَتْ عِنْدَهُ دُرَيْهِمَاتٌ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ فَضَلَ مِنْ هَذَا الْمَالِ دُرَيْهَمَاتٌ، وَلَكُمْ خَدَمٌ يُعَالِجُونَ لَكُمْ، وَيَعْمَلُونَ أَعْمَالَكُمْ، فَإِنْ شِئْتُمْ رَضَخْنَا لَهُمْ ". فَقَالُوا: افْعَلْ، فَأَعْطَاهُمْ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ إِنْ صَحَّتْ بَيَانُ الْوَجْهِ الَّذِي قَسَمَ لِأَجْلِهِ لِلْعَبِيدِ، وَأَنَّ ذَلِكَ كَانَ رَضْخًا بِإِذْنِ سَادَاتِهِمْ، فَكَأَنَّهُ أَعْطَاهُ سَادَاتِهِمْ وَاللهُ أَعْلَمُ.زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ پہلے سال والی بنے، پس آپ نے لوگوں میں برابر تقسیم کی۔ ہر انسان کو دس درہم ملے۔ پھر دوسرے سال تقسیم کی، ان کو بیس بیس درہم ملے اور آپ کے پاس چند درہم بچ گئے۔ آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! مال میں سے چند درہم بچ گئے ہیں۔ تمہارے خادم ہیں جو تمہارے لیے محنت کرتے ہیں اور وہ تمہارے کام کرتے ہیں۔ اگر تم چاہو تو ہم ان کو کچھ عطیہ دے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا: (ایسا) کر لیں، تو آپ نے ہر ایک کو پانچ درہم دیے۔ اگر یہ روایت صحیح ہو تو اس سے وہ وجہ ظاہر ہوتی ہے جس کی بنا پر آپ نے غلاموں کے لیے تقسیم کیا اور یہ کہ وہ ان کے مالکوں کی اجازت سے ایک (معمولی) عطیہ تھا، گویا کہ آپ نے وہ ان کے مالکوں کو دیا۔