السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في قسم ذلك على قدر الكفاية باب: اس (مالِ فے) کو ضرورت و کفایت کے مطابق تقسیم کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12977
قَالَ: وَثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَوْ قَالَ: ابْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ، أَنَّ أَبَاهَا انْطَلَقَ بِهَا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَفَرَضَ لَهَا فِي الْعَطَاءِ وَهِيَ صَغِيرَةٌ، وَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا الصَّبِيُّ الَّذِي أَكَلَ الطَّعَامَ، وَعَضَّ عَلَى الْكَسْرَةِ، بِأَحَقَّ بِهَذَا الْعَطَاءِ مِنَ الْمَوْلُودِ الَّذِي يَمُصُّ الثَّدْيَ " وَهَذِهِ الْآثَارُ مَعَ سَائِرِ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْمَعْنَى مَحْمُولَةٌ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يُفْرَضُ لِلرَّجُلِ قَدْرَ كِفَايَتِهِ وَكِفَايَةِ أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ وَعَبْدِهِ وَدَابَّتِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
ام العلاء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے حصہ مقرر کیا اور وہ چھوٹی تھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو بچہ کھانا کھائے اور دانتوں سے کچھ کاٹ لے تو وہ اس مولود سے زیادہ حق دار ہے جو ابھی دودھ پیتا ہے۔
یہ سارے آثار دلالت کرتے ہیں کہ وہ آدمی کے لیے اس کی گزر بسر کے بقدر اور اس کے اہل، غلام، اولاد اور اس کی سواری کے بقدر اس کا حصہ مقرر کرتے تھے۔