السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: سهم ذي القربى من الخمس باب: خمس میں سے قریبی رشتہ داروں (اہلِ بیت) کے حصے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يَعْنِي الْبَاقِرَ: كَيْفَ صَنَعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى؟ قَالَ: " سَلَكَ بِهِ طَرِيقَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ". قَالَ: قُلْتُ: وَكَيْفَ وَأَنْتُمْ ⦗٥٥٨⦘ تَقُولُونَ مَا تَقُولُونَ؟ قَالَ: " أَمَا وَاللهِ مَا كَانُوا يَصْدُرُونَ إِلَّا عَنْ رَأْيِهِ، وَلَكِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَتَعَلَّقَ عَلَيْهِ خِلَافُ أَبِي بَكْرِ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ بْنِ خَالِدٍ الْوَهْبِيِّ قَالَ: أَمَا وَاللهِ مَا كَانَ أَهْلُ بَيْتِهِ يَصْدُرُونَ إِلَّا عَنْ رَأْيِهِ، وَلَكِنْ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُدَّعَى عَلَيْهِ خِلَافُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَقَدْ ضَعَّفَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ هَذِهِ الرِّوَايَةَ بِأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ رَأَى غَيْرَ رَأْيِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي أَنْ لَمْ يَجْعَلْ لِلْعَبِيدِ فِي الْقِسْمَةِ شَيْئًا، وَرَأَى غَيْرَ رَأْيِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي التَّسْوِيَةِ بَيْنَ النَّاسِ، وَفِي بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، وَخَالَفَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْجَدِّ، وَقَوْلُهُ: سَلَكَ بِهِ طَرِيقَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، جُمْلَةٌ تَحْتَمِلُ مَعَانِيَ، قَالَ: وَقَدْ أُخْبِرْنَا عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ حَسَنًا وَحُسَيْنًا وَابْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ سَأَلُوا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَصِيبَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ، فَقَالَ: هُوَ لَكُمْ حَقٌّ، وَلَكِنِّي مُحَارِبٌ مُعَاوِيَةَ، فَإِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُمْ حَقَّكُمْ مِنْهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَأَخْبَرْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: صَدَقَ، هَكَذَا كَانَ جَعْفَرٌ يُحَدِّثُهُ، فَمَا حَدَّثَكَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: مَا أَحْسِبُهُ إِلَّا عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: وَجَعْفَرٌ أَوْثَقُ وَأَعْرَفُ بِحَدِيثِ أَبِيهِ مِنِ ابْنِ إِسْحَاقَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ مُرْسَلٌ، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ مُرْسَلَةٌ، وَأَمَّا رِوَايَةُ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَلَمْ أَعْلَمْ بَعْدُ أَنَّ الَّذِي جُعِلَ فِي آخِرِهَا مِنْ قَوْلِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ فَيَكُونُ مَوْصُولًا، أَوْ مِنْ قَوْلِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَوِ الزُّهْرِيِّ فَيَكُونُ مُرْسَلًا. وَقَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يُونُسَ، فَمَيَّزَ فِعْلَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، فَهُوَ إِذًا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ مِثْلُ قَوْلِنَا.محمد بن اسحاق کہتے ہیں: میں نے ابوجعفر (یعنی باقر) سے سوال کیا کہ رشتہ داروں کے حصے کے بارے میں علی رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: علی، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما والے طریقے پر چلے تھے، میں نے کہا: تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: وہ اپنی رائے سے کام کرتے تھے لیکن وہ مکروہ سمجھتے تھے کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے خلاف چلیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، کیونکہ علی رضی اللہ عنہ نے غلاموں کو تقسیم میں کچھ نہ دینے کے معاملے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مختلف رائے رکھی، لوگوں میں برابری کرنے اور امہات الاولاد کی بیع کے معاملے میں عمر رضی اللہ عنہ سے مختلف رائے رکھی اور دادا (کی میراث) کے بارے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی، اور ان کا یہ قول کہ ”وہ ابوبکر اور عمر کے طریقے پر چلے“ ایک ایسا جملہ ہے جس میں کئی معانی کا احتمال ہے۔
محمد بن علی کی ابوبکر، عمر اور علی رضی اللہ عنہم سے روایت مرسل ہے، اور اسی طرح حسن بن محمد بن حنفیہ کی روایت بھی مرسل ہے۔ رہی یونس کی زہری سے روایت، تو مجھے ابھی تک معلوم نہیں کہ اس کے آخر میں جو بات رکھی گئی ہے وہ جبیر بن مطعم کا قول ہے تو یہ موصول ہوگی، یا ابن مسیب یا زہری کا قول ہے تو یہ مرسل ہوگی۔ محمد بن یحییٰ ذہلی نے اسے ابوصالح سے، انہوں نے لیث بن سعد سے، انہوں نے یونس سے روایت کیا ہے اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے عمل کو الگ کر کے ابن شہاب زہری کا قول بنایا ہے، لہٰذا یہ منقطع ہے۔