السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: سهم ذي القربى من الخمس باب: خمس میں سے قریبی رشتہ داروں (اہلِ بیت) کے حصے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبِ بْنِ فُضَيْلٍ التَّاجِرُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ ⦗٥٥٦⦘ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِي فَنَأْتِيَ بِإذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ فَأَسْتَعِينُ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي، فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفِيَّ مَتَاعًا مِنَ الْأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحَبَائِلِ، وَشَارِفَايَ مُنَاخَتَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَرَجَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ ما جَمَعْتُ وَإِذَا شَارِفَايَ قَدِ اجْتُبَّتْ أَسْنِمَتُهُمَا، وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا، وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنِي حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمَنْظَرَ مِنْهُمَا، فَقُلْتُ: مَنْ فَعَلَ هَذَا؟ فَقَالُوا: فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، غَنَّتْهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابَهُ، فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا:.حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جنگ بدر کی غنیمت میں سے مجھے ایک اونٹنی ملی تھی اسی جنگ کی غنیمت میں سے۔ خمس سے بھی آپ ﷺ نے مجھے ایک اونٹنی دی تھی، جب میرا ارادہ ہوا آپ ﷺ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کا تو میں نے ایک سنار سے جو بنی قینقاع کا تھا، اس سے بات کی کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم اذخر لائیں تاکہ اس گھاس کو سناروں کے ہاتھ بیچ دوں اور اس کی قیمت ولیمہ کی دعوت میں لگاؤں گا، میں ابھی اپنی اونٹنی کے پالان، ٹوکرے اور رسیاں جمع کر رہا تھا، اونٹنیاں ایک انصاری صحابی کے حجرے کے قریب بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں انتظام پورا کر کے جب آیا تو دیکھا کہ ان کی کوہان کسی نے کاٹ دیے ہیں اور کوکھ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی ہے۔ یہ حالت دیکھ کر میں اپنے آنسوؤں کو نہ روک سکا۔ میں نے پوچھا: یہ کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اور وہ ابھی اسی حجرے میں انصار کے ساتھ شراب نوشی میں شریک تھے، ان کے پاس ایک گانے والی ہے اور ان کے دوست احباب ہیں، گانے والی نے جب یہ مصرع پڑھا، ہاں اے حمزہ! یہ عمدہ اور فربہ اونٹنیاں ہیں اور وہ صحن میں باندھی ہوئی ہیں تو حمزہ رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار تھامی اور ان دونوں اونٹنیوں کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں وہاں سے نبی ﷺ کے پاس آیا، زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی نبی ﷺ کے پاس تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے میرے چہرے سے پریشانی کو پہچان لیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج جیسی تکلیف کی بات کبھی پیش نہ آئی تھی۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں کو پکڑ کر ان کے کوہان کاٹ ڈالے ہیں اور ان کی کوکھ چیر ڈالی ہے اور وہ وہیں ایک گھر میں شراب کی مجلس میں ہیں، آپ ﷺ نے اپنی چادر منگوائی اور اوڑھ کر چل پڑے۔ میں اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے۔ جب اس گھر کے قریب آپ ﷺ تشریف لے گئے اور حمزہ رضی اللہ عنہ نے جو کیا تھا اس پر تنبیہ کی۔ حمزہ رضی اللہ عنہ شراب کے نشے میں مست تھے اور ان کی آنکھیں سرخ تھیں، انہوں نے حضور ﷺ کی طرف نظر اٹھائی۔ پھر ذرا اور اوپر اٹھائی اور آپ کے گھٹنوں پر دیکھنے لگے۔ پھر نظر اٹھائی اور آپ کے چہرے پر دیکھنے لگے، پھر کہنے لگے: تم سب میرے ماں باپ کے غلام ہو۔ حضور ﷺ سمجھ گئے کہ وہ بے ہوش ہے، اس لیے آپ ﷺ فوراً الٹے پاؤں اس گھر سے باہر نکل آئے، ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔