السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: سهم ذي القربى من الخمس باب: خمس میں سے قریبی رشتہ داروں (اہلِ بیت) کے حصے کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى مِنْ خَيْبَرَ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَؤُلَاءِ إِخْوَانُكَ بَنُو هَاشِمٍ لَا نُنْكِرُ فَضْلَهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي جَعَلَكَ اللهُ بِهِ مِنْهُمْ، أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا، وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ ⦗٥٥٥⦘ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ؟ فَقَالَ: " إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ "، ثُمَّ شَبَّكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا فِي الْأُخْرَى.سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر سے بنی ہاشم اور بنی مطلب میں رشتہ داروں کو حصہ دیا تو میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما گئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنی ہاشم سے آپ کے بھائی ہیں۔ ہم ان کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے، اس مقام کی وجہ سے جو اللہ نے آپ کو دیا ہے، لیکن عبدالمطلب میں سے ہمارے بھائیوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، آپ نے ان کو دے دیا ہے اور ہمیں چھوڑ دیا ہے اور ہم اور وہ ایک ہی طرح کے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے ہمیں نہیں چھوڑا۔ جاہلیت میں اور اسلام میں بے شک بنی ہاشم اور بنی مطلب ایک ہی چیز ہیں“، پھر رسول اللہ ﷺ نے ہاتھوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا۔