السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
جماع أبواب تفريق الخمس -- باب: سهم الله وسهم رسوله صلى الله عليه وسلم من خمس الفيء والغنيمة باب: خمس (پانچواں حصہ) تقسیم کرنے کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مالِ فے اور مالِ غنیمت کے خمس میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 12950
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنٍ لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَمَّنْ أَدْرَكَ مِنْ أَهْلِهِ، وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، فَذَكَرَا قِسْمَةَ خَيْبَرَ، قَالَا: " ثُمَّ قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُمُسَهُ بَيْنَ أَهْلِ قَرَابَتِهِ وَبَيْنَ نِسَائِهِ وَبَيْنَ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَعْطَاهُمْ مِنْهَا، فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنَتِهِ فَاطِمَةَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ مِائَتَيْ وَسْقٍ، وَلعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِائَةَ وَسْقٍ، وَلِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ مِائَتَيْ وَسْقٍ، مِنْهَا خَمْسُونَ وَسْقًا نَوًى، وَلِعِيسَى بْنِ نُقِيمٍ مِائَتَيْ وَسْقٍ، وَلِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِائَتَيْ وَسْقٍ " فَذَكَرَا جَمَاعَةً مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ قَسَمَ لَهُمْ مِنْهَا.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی بکر بن حزم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ خیبر کی تقسیم کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے خمس کو اپنے رشتہ داروں، اپنی بیویوں، آدمیوں اور مسلمان عورتوں میں تقسیم کیا اور اس میں سے ان کو دیا، پس اس میں سے اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے رسول اللہ ﷺ نے دو سو وسق اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لیے ایک سو وسق، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لیے دو سو وسق، ان میں سے پچاس وسق گٹھلی والی کھجور کے اور عیسیٰ بن نقیم کو دو سو وسق اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی دو سو وسق دیے۔