السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
جماع أبواب تفريق الخمس -- باب: سهم الله وسهم رسوله صلى الله عليه وسلم من خمس الفيء والغنيمة باب: خمس (پانچواں حصہ) تقسیم کرنے کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مالِ فے اور مالِ غنیمت کے خمس میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 12938
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ إِسْمَاعِيلَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ جَدِّي يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: " إِنَّمَا اسْتَفْتَحَ اللهُ الْكَلَامَ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ بِذِكْرِ نَفْسِهِ؛ لِأَنَّهَا أَشْرَفُ الْكَسْبِ، وَإِنَّمَا يُنْسَبُ إِلَيْهِ كُلُّ شَيْءٍ يُشَرَّفُ وَيُعَظَّمُ، وَلَمْ يَنْسِبِ الصَّدَقَةَ إِلَى نَفْسِهِ؛ لِأَنَّهَا أَوْسَاخُ النَّاسِ ".حافظ ثناء اللہ
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فئی اور غنیمت میں کلام کی ابتدا اپنی طرف سے کی، اس لیے کہ وہ بہترین کمائی ہے اور اس کی طرف ہر عزت اور شرف والی چیز منسوب ہوتی ہے اور صدقہ اس کی طرف منسوب نہیں ہوتا؛ اس لیے کہ وہ لوگوں کی میل ہے۔