السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: المدد يلحق بالمسلمين قبل أن ينقطع الحرب، أو لم يأتوا حتى ينقطع الحرب، وما روي في الغنيمة أنها لمن شهد الوقعة باب: جنگ ختم ہونے سے پہلے یا جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کی کمک پہنچنے کا بیان، اور اس روایت کا بیان کہ مالِ غنیمت صرف اسی کے لیے ہے جو جنگ میں حاضر ہوا
حدیث نمبر: 12924
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، فَذَكَرَهُ. الرِّوَايَاتُ فِي قُدُومِهِ بَعْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ أَصَحُّ، ثُمَّ رِوَايَةُ مَنْ رَوَى أَنَّهُ لَمْ يُسْهِمْ لَهُ، أَرَادَ قِسْمَةَ مَنْ شَهِدَهَا، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ أَشْرَكَهُمْ فِي سُهْمَانِهِمْ بِرِضَاهُمْ كَمَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
وہ روایات جو فتح خیبر کے بعد ان کا آنا بتاتی ہیں، وہ زیادہ صحیح ہیں اور اسے حصہ نہ دینا آپ ﷺ کا ارادہ تھا کہ ”تقسیم اس کے لیے ہے جو اس میں حاضر ہو“ اور احتمال ہے کہ ان کو حصوں میں لوگوں کی رضامندی سے شریک کیا ہو۔