السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: المدد يلحق بالمسلمين قبل أن ينقطع الحرب، أو لم يأتوا حتى ينقطع الحرب، وما روي في الغنيمة أنها لمن شهد الوقعة باب: جنگ ختم ہونے سے پہلے یا جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کی کمک پہنچنے کا بیان، اور اس روایت کا بیان کہ مالِ غنیمت صرف اسی کے لیے ہے جو جنگ میں حاضر ہوا
حدیث نمبر: 12923
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكٍ، عَنْ ⦗٥٤٤⦘ أَبِيهِ، عَنْ نَفَرٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، قَالُوا: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَقَدْ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ يُقَالُ لَهُ سِبَاعُ بْنُ عُرْفُطَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " فَوَجَدْنَاهُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ صَلَاتِنَا أَتَيْنَا سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ فَزَوَّدَنَا تَمْرًا، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فَتَحَ خَيْبَرَ، وَكَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ فَأَشْرَكونَا فِي سُهْمَانِهِمْ " وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ: فَاسْتَأْذَنَ النَّاسَ أَنْ يَقْسِمَ لَنَا مِنَ الْغَنَائِمِ، فَأَذِنُوا لَهُ، فَقَسَمَ لَنَا..حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں آئے اور رسول اللہ ﷺ خیبر کی طرف چلے گئے اور بنی غفار کا آدمی مدینہ پر نائب مقرر تھا، اسے سباغ بن عرفطہ کہا جاتا تھا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے اسے صبح کی نماز کے وقت پایا، نماز سے فارغ ہو کر ہم اس کے پاس آئے، اس نے کھجوروں سے ہماری ضیافت کی، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور خیبر فتح ہو چکا تھا اور مسلمانوں نے بات کی، پس انہوں نے ہمیں اپنے حصوں میں شریک کیا۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے لوگوں سے اجازت طلب کی کہ ”ہمیں بھی غنیمت سے دیا جائے“، انہوں نے اجازت دے دی، پس آپ ﷺ نے ہمیں بھی دیا۔