السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: من دخل يريد الجهاد فمرض أو لم يقاتل باب: اس شخص کا بیان جو جہاد کی نیت سے شریک ہوا لیکن بیمار پڑ گیا یا اس نے قتال نہ کیا
حدیث نمبر: 12905
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْغُونِي الضُّعَفَاءَ؛ فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اپنے ضعفاء میں تلاش کرو، پس تمہیں رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے تمہارے کمزوروں کی وجہ سے۔“