السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في سهم البراذين والمقاريف والهجين باب: براذین، مقاریف اور ہجین (مختلف نسلوں کے گھوڑوں) کے حصے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12885
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ الْأَقْمَرِ قَالَ: أَغَارَتِ الْخَيْلُ بِالشَّامِ، فَأَدْرَكَتِ الْخَيْلُ مِنْ يَوْمِهَا، وَأَدْرَكَتِ الْكَوَادِنُ ضُحًى، وَعَلَى الْخَيْلِ الْمُنْذِرُ بْنُ أَبِي حِمَّصَةَ الْهَمْدَانِيُّ، فَفَضَّلَ الْخَيْلَ عَلَى الْكَوَادِنِ وَقَالَ: لَا أَجْعَلُ مَا أَدْرَكَ كَمَا لَمْ يُدْرِكْ. فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " هَبِلَتِ الْوَادِعِيَّ أُمُّهُ؛ لَقَدْ أَذْكَرَتْ بِهِ، أَمْضُوهَا عَلَى مَا قَالَ " ⦗٥٣٤⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَوْ كُنَّا نُثْبِتُ مِثْلَ هَذَا مَا خَالَفْنَاهُ، وَقَالَ فِي الْقَدِيمِ: هَذَانِ خَبَرَانِ مُرْسَلَانِ، لَيْسَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا شَهِدَ مَا حَدَّثَ بِهِ.حافظ ثناء اللہ
ابن القَمَر سے روایت ہے کہ گھڑ سواروں کی ایک جماعت نے شب خون مارا، گھڑ سواروں نے صبح سویرے اس کو فتح کیا اور خچر والوں نے چاشت کے وقت فتح کیا، گھڑ سواروں کے قائد منذر بن ابو حمنہ تھے۔ انہوں نے گھڑ سواروں کو خچر سواروں پر فضیلت دی اور کہا کہ میں جو ان گھڑ سواروں نے پایا اور خچر سوار حاصل نہ کر سکے دونوں کو ایک نہیں قرار دوں گا۔ یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: جانے والے کو اس کی ماں نے گم کر دیا اور وہ مر گیا۔ انہوں نے یہ بات انہیں یاد دلائی، تو جو انہوں نے کہا، انہوں نے اس کو جاری کر دیا۔