السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: إخراج الخمس من رأس الغنيمة وقسمة الباقي بين من حضر القتال من الرجال المسلمين البالغين الأحرار باب: مالِ غنیمت کے اصل میں سے خمس نکالنے اور باقی ماندہ کو جنگ میں شریک ہونے والے بالغ اور آزاد مسلمان مردوں کے درمیان تقسیم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12862
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَخَالِدٍ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْقَيْنِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى وَهُوَ يَعْرِضُ فَرَسًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا تَقُولُ فِي الْغَنِيمَةِ؟ قَالَ: " لِلَّهِ خُمُسُهَا، وَأَرْبَعَةُ أَخْمَاسٍ لِلْجَيْشِ ". قُلْتُ: فَمَا أَحَدٌ أَوْلَى بِهِ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالَ: " لَا، وَلَا السَّهْمُ تَسْتَخْرِجُهُ مِنْ جَنْبِكَ لَيْسَ أَنْتَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ بلقین کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ وادی القریٰ میں گھوڑے پر تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غنیمت کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے اس کا خمس ہے اور باقی چار حصے لشکر کے ہیں۔“ میں نے کہا: کون ایک سے زیادہ حق دار ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں اور نہ کوئی حصہ جسے تو اپنی طرف سے نکالے تو اس کا اپنے مسلمان بھائی سے زیادہ حق دار نہیں ہے۔“