حدیث نمبر: 12847
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ نَاسٌ مِنَ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ لَيْسَ لَهُمْ فِدَاءٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ "، قَالَ: " فَجَاءَ غُلَامٌ مِنْ أَوْلَادِ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي، قَالَ: الْخَبِيثُ يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ، وَاللهِ لَا تَأْتِيهِ أَبَدًا ".
حافظ ثناء اللہ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بدر کے قیدیوں میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے پاس فدیہ کے لیے کچھ نہ تھا، پس رسول اللہ ﷺ نے ان کا فدیہ مقرر کر دیا کہ وہ انصار کے بچوں کو لکھنا سکھا دیں، پس انصار کا ایک بچہ اپنے باپ کے پاس گیا، اس نے پوچھا: ”کیا معاملہ ہے؟“ بچے نے کہا: ”میرے معلم نے مجھے مارا ہے۔“ باپ نے کہا: ”وہ خبیث بدر کا بدلہ چاہتا ہے، اللہ کی قسم! اب تو اس کے پاس نہ جانا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12847
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»