السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في من الإمام على من رأى من الرجال البالغين من أهل الحرب باب: دار الحرب کے بالغ مردوں میں سے امام کا جسے مناسب سمجھے احسان کر کے چھوڑ دینے کے متعلق جو مروی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي ⦗٥١٩⦘ سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ يَوْمًا فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ فِيهَا سَيْفَهُ، قَالَ جَابِرٌ: فَنِمْنَا نَوْمَةً، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا، فَأَجَبْنَاهُ، فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ: اللهُ، فَقَالَ ثَانِيَةً: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ: اللهُ، فَشَامَ السَّيْفَ وَجَلَسَ "، فَلَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصَّغَانِيِّ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ وہ نجد کی طرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ میں گئے۔ جب رسول اللہ ﷺ واپس ہوئے تو وہ بھی ساتھ تھے، ایک دن ایک خاردار درختوں والی وادی میں قیلولہ کا وقت آگیا۔ رسول اللہ ﷺ اترے اور لوگ بھی درختوں کے سایہ میں پھیل گئے اور رسول اللہ ﷺ بھی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے۔ آپ ﷺ نے اپنی تلوار درخت سے لٹکا دی۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم سو گئے، جب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بلایا تو ہم نے جواب دیا (گئے) تو دیکھا آپ ﷺ کے پاس ایک دیہاتی کھڑا ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے میری تلوار مجھ پر ہی سونت ڈالی ہے، میں اٹھا ہوں تو وہ اس کے ہاتھ میں ہے بغیر میان کے۔ اس نے کہا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ! اس نے دوسری دفعہ کہا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ۔“ پس اس نے تلوار میان میں رکھ دی اور بیٹھ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے بدلہ نہ لیا۔