حدیث نمبر: 12830
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا مُحَمَّدٌ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا افْتَتَحَ الشَّامَ، فَقَامَ إِلَيْهِ بِلَالٌ فَقَالَ: لَتَقْسِمَنَّهَا أَوْ لَنَتَضَارَبَنَّ عَلَيْهَا بِالسَّيْفِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَوْلَا أَنِّي أَتْرُكُ، يَعْنِي النَّاسَ، بَبَّانًا لَا شَيْءَ لَهُمْ مَا فُتِحَتْ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا سُهْمَانًا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، وَلَكِنْ أَتْرُكُهَا لِمَنْ بَعْدَهُمْ جِرْيَةً يَقْسِمُونَهَا " وَرَوَاهُ نَافِعٌ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَصَابَ النَّاسُ فَتْحًا بِالشَّامِ، فِيهِمْ بِلَالٌ، قَالَ: وَأَظُنُّهُ ذَكَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَكَتَبُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِسْمَتِهِ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، فَأَبَى وَأَبَوْا، فَدَعَا عَلَيْهِمْ فَقَالَ: اللهُمَّ اكْفِنِي بِلَالًا وَأَصْحَابَ بِلَالٍ. وَفِي كُلِّ ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَرَى مِنَ الْمَصْلَحَةِ إِقْرَارَ الْأَرَاضِي، وَكَانَ يَطْلُبُ اسْتِطَابَةَ قُلُوبِ الْغَانِمِينَ، وَإِذَا لَمْ يَرْضَوْا بِتَرْكِهَا فَالْحُجَّةُ فِي قِسْمَتِهَا قَائِمَةٌ بِمَا ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِسْمَتِهِ خَيْبَرَ، وَقَدْ خَالَفَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَبِلَالٌ وَأَصْحَابُهُ، وَمُعَاذٌ عَلَى الشَّكِّ مِنَ الرَّاوِي، عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيمَا رَأَى وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي فَتْحِ السَّوَادِ وَقِسْمَتِهِ بَيْنَ الْغَانِمِينَ حَتَّى اسْتَطَابَ قُلُوبَهُمْ بِالرَّدِّ، مَا يُوَافِقُ قَوْلَ غَيْرِهِ، وَذَلِكَ يَرِدُ فِي مَوْضِعِهِ مِنَ الْمُخْتَصَرَاتِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ

زید بن اسلم سے روایت ہے کہ جب شام فتح ہوا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے وہاں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔ انہوں نے کہا: اسے تقسیم کردینا یا پھر ہم وہاں تلوار سے مضاربت کریں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر مجھے لوگوں کا خیال نہ ہوتا تو جو بھی بستی وغیرہ فتح کرتا تو اس کو حصوں میں تقسیم کردیتا، جیسے رسول اللہ ﷺ نے خیبر تقسیم کیا تھا، لیکن میں نے بعد والوں کے لیے جزیہ پر چھوڑ دیا کہ وہ تقسیم کرلیں گے۔“
(ب) نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: لوگوں کو شام میں فتح ملی۔ ان میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ راوی کہتے ہیں: میرے خیال میں انہوں نے ذکر کیا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس کی تقسیم کے بارے میں لکھا جیسے رسول اللہ ﷺ نے خیبر تقسیم کیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، انہوں نے بھی انکار کر دیا۔ پس آپ نے ان کو بلایا اور کہا: «اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِلَالًا وَأَصْحَابَ بِلَالٍ» ”اے اللہ! مجھے بلال اور اصحاب بلال سے کافی ہوجا۔“
اور اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مصلحت کی خاطر زمین برقرار رکھتے تھے اور وہ غنیمت پانے والوں کی خوشی کا لحاظ کرتے تھے اور جب وہ راضی نہ ہوتے تو چھوڑ دیتے تھے اور ان کا تقسیم کرنا درست ہے۔ اس لیے کہ نبی ﷺ سے خیبر کی تقسیم ثابت ہے اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے، اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں راوی کو شک ہے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12830
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»