السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: النفل من خمس الخمس سهم المصالح باب: خمس کے پانچویں حصے یعنی مصالحِ عامہ کے حصے میں سے نفل دینے کا بیان
حدیث نمبر: 12811
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، ثنا الْحَكَمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُنَفِّلُ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ فَرِيضَةُ الْخُمُسِ فِي الْمَغْنَمِ، فَلَمَّا نَزَلَتِ الْآيَةُ {أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ} [الأنفال: ٤١] تَرَكَ النَّفْلَ الَّذِي كَانَ يُنَفِّلُ، وَصَارَ ذَلِكَ إِلَى خُمُسِ الْخُمُسِ مِنْ سَهْمِ اللهِ، وَسَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خمس فرض ہونے سے پہلے غنیمت کے مال سے دیا کرتے تھے، جب آیت ﴿مَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾ [سورة الأنفال: 41] نازل ہوئی تو جس طرح پہلے دیتے تھے اس طرح دینا چھوڑ دیا اور یہ خمس اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گیا۔