السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب التطهر في أواني المشركين إذا لم يعلم نجاسة باب: مشرکین کے برتنوں سے پاکی حاصل کرنے کا بیان جب ان کی نجاست کا علم نہ ہو
حدیث نمبر: 128
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، نا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، نا عَبْدُ الْأَعْلَى، أنا بُرْدٌ أَبُو الْعَلَاءِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيلُ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُصِيبُ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ وَأَسْقِيَتِهِمْ، فَنَسْتَمْتِعُ بِهَا، فَلَا يَعِيبُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ: فَلَا يُعَابُ عَلَيْنَا.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد کرتے تھے، ہمیں مشرکوں کے برتن اور ان کے مشکیزے مل جاتے تو ہم ان سے فائدہ اٹھاتے تھے، یہ ان کے لیے کوئی عیب والی بات نہیں ہوتی تھی۔
(ب) اور ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ ہم پر کوئی عیب نہیں لگایا جاتا تھا۔