السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في تخميس السلب باب: مقتول کے سامان میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالنے کے متعلق جو مروی ہے
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ، وَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُ سَيْفِهِ، فَجَزَرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ جَزُورًا، فَسَأَلَهُ الْمَدَدِيُّ طَائِفَةً مِنْ جِلْدِهِ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَاتَّخَذَهُ كَهَيْئَةِ الدَّرَقِ، وَمَضَيْنَا فَلَقِينَا جُمُوعَ الرُّومِ، وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ لَهُ أَشْقَرَ، عَلَيْهِ سَرْجٌ مُذَهَّبٌ، وَسِلَاحٌ مُذَهَّبٌ، فَجَعَلَ الرُّومِيُّ يَفْرِي بِالْمُسْلِمِينَ، وَقَعَدَ لَهُ الْمَدَدِيُّ خَلْفَ صَخْرَةٍ، فَمَرَّ بِهِ الرُّومِيُّ، فَعَرْقَبَ فَرَسَهُ فَخَّرَّ، وَعَلَاهُ فَقَتَلَهُ وَحَازَ فَرَسَهُ وَسِلَاحَهُ، فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُسْلِمِينَ بَعَثَ إِلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَخَذَ مِنَ السَّلَبِ، قَالَ عَوْفٌ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا خَالِدُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ، قُلْتُ: لَتَرُدَّنَّهُ إِلَيْهِ أَوْ لَأُعَرِّفَنَّكَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَنْ نَرُدَّ عَلَيْهِ، قَالَ عَوْفٌ: فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ قِصَّةَ الْمَدَدِيِّ وَمَا فَعَلَ خَالِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا خَالِدُ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قََالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَكْثَرْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا خَالِد، رُدَّ عَلَيْهِ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ "، قَالَ عَوْفٌ: فَقُلْتُ: دُونَكَ يَا خَالِدُ، أَلَمْ أَفِ لَكَ؟ فَقَالَ ⦗٥٠٦⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا ذَاكَ؟ " فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا خَالِدُ، لَا تَرُدَّ عَلَيْهِ، هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُو لِي أُمَرَائِي، لَكُمْ صَفْوَةُ أَمْرِهِمْ، وَعَلَيْهِمْ كَدَرُهُ؟ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ..عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ موتہ میں نکلا اور یمن والوں میں سے ایک مددی (کمک کے طور پر آنے والا آدمی) میرا ساتھی بن گیا، اس کے پاس اس کی تلوار کے علاوہ کچھ نہ تھا، مسلمانوں کے ایک آدمی نے اونٹ ذبح کیا، مددی نے اس سے اس کے چمڑے کا ایک ٹکڑا مانگا، اس نے دے دیا، اس نے اسے ڈھال کی طرح بنا لیا۔ پس ہم چلے اور روم کے لشکروں سے ملے، ان میں ایک آدمی سرخی مائل گھوڑے پر تھا، اس پر سونے سے مزین زین اور سونے سے مزین اسلحہ تھا، پس وہ رومی مسلمانوں پر سخت حملے کرنے لگا اور مددی اس کی گھات میں ایک چٹان کے پیچھے بیٹھ گیا۔ پس جب رومی وہاں سے گزرا تو اس نے اس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دیں، وہ گر پڑا اور اس نے اس پر غلبہ پا کر اسے (رومی کو) قتل کر دیا اور اس کا گھوڑا اور اسلحہ قبضے میں لے لیا۔ جب اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے بلوایا اور اس سے «سَلَب» لے لیا۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آیا، میں نے خالد رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تو جانتا نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سلب کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا ہے؟ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، لیکن میں نے اسے زیادہ خیال کیا۔ میں نے کہا: تو اسے ضرور لوٹا دے ورنہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کا ذکر کروں گا، خالد رضی اللہ عنہ نے لوٹانے سے انکار کر دیا۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوئے۔ میں نے آپ ﷺ پر مددی کا قصہ بیان کیا اور جو خالد رضی اللہ عنہ نے کیا، وہ بھی بیان کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے خالد! تو نے ایسا کیوں کیا؟“ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اسے زیادہ خیال کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے خالد! اسے لوٹا دو جو تم نے اس سے لیا ہے۔“ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: لو اے خالد! کیا میں نے تم سے کہی ہوئی بات پوری نہیں کر دی؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا معاملہ ہے؟“ میں نے آپ ﷺ کو خبر دی تو رسول اللہ ﷺ غصے میں آ گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے خالد! اسے نہ لوٹانا، کیا تم میرے امیروں کو میری خاطر چھوڑو گے نہیں؟ ان کے معاملے کا صاف حصہ تمہارے لیے ہے اور اس کی گدلاہٹ ان پر ہے۔“