السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
جماع أبواب الأنفال -- باب: السلب للقاتل باب: انفال (زائد عطیات اور مالِ غنیمت) کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مقتول کا سامان قاتل کو ملنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَعْقِلِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ ⦗٥٠٢⦘ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَحْشٍ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ: " أَلَا نَأْتِي نَدْعُو اللهَ " فَخَلَوْا فِي نَاحِيَةٍ، فَدَعَا سَعْدٌ قَالَ: يَا رَبِّ، إِذَا لَقِينَا الْقَوْمَ غَدًا، فَلَقِّنِي رَجُلًا شَدِيدًا بَأْسُهُ شَدِيدًا حَرْدُهُ؛ فَأُقَاتِلَهُ فِيكَ وَيُقَاتِلُنِي، ثُمَّ ارْزُقْنِي عَلَيْهِ الظَّفَرَ حَتَّى أَقْتُلَهُ وَآخُذَ سَلَبَهُ، فَأَمَّنَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَحْشٍ ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ ارْزُقْنِي غَدًا رَجُلًا شَدِيدًا حَرْدُهُ، شَدِيدًا بَأْسُهُ، أُقَاتِلُهُ فِيكَ وَيُقَاتِلُنِي، ثُمَّ يَأْخُذُنِي فَيَجْدَعُ أَنْفِي، فَإِذَا لَقِيتُكَ غَدًا قُلْتَ: يَا عَبْدَ اللهِ، فِيمَ جُدِعَ أَنْفُكَ وَأُذُنُكَ؟ فَأَقُولُ: فِيكَ وَفِي رَسُولِكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَقُولُ: صَدَقْتَ "، قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: يَا بُنِيَّ، كَانَتْ دَعْوَةُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ خَيْرًا مِنْ دَعْوَتِي، لَقَدْ رَأَيْتُهُ آخِرَ النَّهَارِ وَإِنَّ أُذُنَهُ وَأَنْفَهُ لَمُعَلَّقَانِ فِي خَيْطٍ.اسحاق بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے احد کے دن کہا: ”آؤ اللہ کو پکار لیں“، پس ہم ایک کنارے پر چلے گئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کی: ”اے میرے رب! جب کل ہم دشمن سے ملیں تو مجھے ایسے آدمی سے ملانا جو انتہائی سخت ارادے والا ہو، میں اس سے تیری خاطر لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے۔ پھر مجھے اس پر کامیابی دینا حتیٰ کہ میں اس کو قتل کر دوں اور اس کا سامان لے لوں۔“ پس عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آمین کہا۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے میرے رب! مجھے کل ایسے آدمی سے ملانا جو انتہائی سخت ارادے والا ہو، میں تیری خاطر اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے اور میرا ناک کاٹ دے، جب میں کل کو تجھ سے ملوں تو تو کہے: اے عبداللہ! تیرا ناک، کان کیوں کاٹے گئے؟ میں کہوں: تیری اور تیرے رسول ﷺ کی خاطر، تو تو کہے: تو نے سچ کہا۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے میرے بیٹے! عبداللہ رضی اللہ عنہ کی دعا میری دعا سے بہتر تھی، میں نے دن کے آخر میں دیکھا کہ ان کا کان اور ناک ایک دھاگے میں لٹک رہے تھے۔“