السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
جماع أبواب الأنفال -- باب: السلب للقاتل باب: انفال (زائد عطیات اور مالِ غنیمت) کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مقتول کا سامان قاتل کو ملنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْمَاجِشُونِ قَالَ: أَخْبَرَنِي ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ، تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا فَقَالَ: يَا عَمَّاهُ، هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا، وَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ، فَغَمَزَنِي الْآخَرُ فَقَالَ لِي مِثْلَهَا، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَدُورُ فِي النَّاسِ، فَقُلْتُ لَهُمَا: أَلَا إِنَّ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِ عَنْهُ، فَابْتَدَرَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ: " أَيُّكُمَا قَتَلَهُ؟ " فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُهُ، فَقَالَ: " هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا؟ " قَالَا: لَا، فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ فَقَالَ: " كِلَاكُمَا قَتَلَهُ "، وَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَكَانَا مُعَاذَ ابْنَ عَفْرَاءَ وَمُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ.سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بدر کے دن صف میں کھڑا تھا، میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو انصار کے دو نو عمر لڑکے تھے، میں نے خواہش کی کہ کاش میں کسی بڑی عمر والے آدمی کے ساتھ ہوتا، پس ان میں سے ایک نے مجھے اشارہ کیا اور کہا: اے چچا! کیا آپ ابوجہل کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں اور اے بھتیجے! تجھے اس کی کیا ضرورت ہے؟ اس نے کہا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں نکالتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میں اس سے علیحدہ نہیں ہوں گا، حتیٰ کہ ہم میں سے پہلے فوت ہونے والا فوت ہو جائے، مجھے اس پر بڑا تعجب ہوا، اتنے میں دوسرے نے بھی ایسی ہی بات کہی، تھوڑی ہی دیر میں میں نے ابوجہل کو دیکھا، وہ لوگوں میں گھوم رہا تھا، میں نے ان سے کہا: وہ ہے، جس کے بارے میں تم مجھ سے سوال کر رہے تھے، وہ دونوں اپنی تلواریں لے کر اس کی طرف دوڑے، ان دونوں نے اس کو مارا یہاں تک کہ اسے قتل کردیا، پھر وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹے، آپ ﷺ کو خبر دی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”دونوں میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے؟“ دونوں میں سے ہر ایک نے کہا: میں نے اسے قتل کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کرلی ہیں؟“ دونوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے دونوں کی تلواروں کو دیکھا تو فرمایا: ”دونوں نے ہی اسے قتل کیا ہے“ اور اس (ابوجہل) کے سلب کا فیصلہ معاذ بن عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ کے حق میں کیا اور وہ دونوں معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموع رضی اللہ عنہما تھے۔