السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: سهم الصفي باب: صفی (مالِ غنیمت میں سے رسول اللہ ﷺ کے خاص حصے) کا بیان
حدیث نمبر: 12753
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السَّهْمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بََشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا كَانَ لَهُ سَهْمٌ صَافٍ يَأْخُذُهُ مِنْ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَتْ صَفِيَّةُ مِنْ ذَلِكَ السَّهْمِ، وَكَانَ إِذَا لَمْ يَغْزُ بِنَفْسِهِ ضُرِبَ لَهُ بِسَهْمِهِ وَلَمْ يَخْتَرْ ".حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ خود لڑائی میں شریک ہوتے تو ایک حصہ چھانٹ کر جہاں سے چاہتے لے لیتے۔ جو جنگ خیبر میں آپ کو ملیں، اسی حصہ میں آئیں اور جب آپ خود لڑائی میں شریک نہ ہوتے تو ایک حصہ آپ کے لیے الگ کیا جاتا مگر آپ کو اختیار نہ ہوتا کہ جو چاہیں چھانٹ کرلیں۔