السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: وجوب الخمس في الغنيمة والفيء، ومن قال: لا تخمس الجزية وما في معناها باب: مالِ غنیمت اور مالِ فے میں خمس (پانچویں حصے) کے وجوب کا بیان، اور اس شخص کا قول کہ جزیہ اور اس کے ہم معنی اموال میں خمس نہیں نکالا جائے گا
قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْغَنِيمَةُ وَالْفَيْءُ يَجْتَمِعَانِ فِي أَنَّ فِيهِمَا مَعًا الْخُمُسَ مِنْ جَمِيعِهِمَا لِمَنْ سَمَّاهُ اللهُ لَهُ فِي الْآيَتَيْنِ مَعًا وَقَالَ فِي الْقَدِيمِ: إِنَّمَا يُخَمَّسُ مَا أُوجِفَ عَلَيْهِ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غنیمت اور فے دونوں اس بات میں یکساں ہیں کہ ان دونوں کے پورے مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) ان لوگوں کے لیے ہے جن کا نام اللہ تعالیٰ نے ان دونوں آیتوں میں ذکر فرمایا ہے۔“
اور انہوں نے (اپنے) قدیم (قول) میں فرمایا: ”صرف اسی مال میں سے خمس نکالا جائے گا جس پر (گھوڑے اور اونٹ) دوڑا کر (یعنی جنگ کر کے) حاصل کیا گیا ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مِمَّنِ الْقَوْمُ؟ " قَالُوا: مِنْ رَبِيعَةَ، قَالَ: " مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَيْرِ الْخَزَايَا، وَلَا النَّدَامَى "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَإِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ ⦗٤٨٢⦘ بَعِيدَةٍ، وَإِنَّهُ يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحِيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللهِ وَحْدَهُ، أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللهِ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ، وَرُبَّمَا قَالَ: وَالْمُقَيَّرِ، فَاحْفَظُوهُنَّ وَادْعُوا إِلَيْهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْجَعْدِ عَنْ شُعْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ..ابو جمرہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے کہا: ربیعہ سے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مرحبا قوم کو بغیر کسی ندامت کے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم ربیعہ کے قبیلے سے ہیں، ہم آپ کے پاس بڑی مشقت کے بعد آئے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان کفار کا قبیلہ مضر حائل ہے، ہم آپ کے پاس صرف اشہرِ حرم میں پہنچ سکتے ہیں، پس ہمیں کوئی واضح حکم دے دیں، ہم اس کی طرف اپنے پچھلوں کو بھی دعوت دیں اور ہم جنت میں داخل ہو جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں، میں تمہیں ایک اللہ پر ایمان کا حکم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو ایمان باللہ کیا ہے؟ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم غنیمت کے مال سے خمس دو گے اور میں تمہیں چار چیزوں سے روکتا ہوں: «الدُّبَّاءُ» (کدو) سے، «الحَنْتَمُ» (سبز لاکھی برتن) سے، «النَّقِيرُ» (کریدی ہوئی لکڑی کے برتن) سے، «المُزَفَّتُ» (روغنی برتن) سے“—اور کبھی «المُقَيَّرُ» کا لفظ بولا—اور فرمایا: ”ان کو یاد رکھو اور اپنے پچھلوں کو بھی ان کی دعوت دو۔“