حدیث نمبر: 12718
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْجَوْهَرِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فِي مَغَازِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ تَخَلَّفَ عَلَى امْرَأَتِهِ رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ وَجِعَةً، فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا حَتَّى تُوُفِّيَتْ يَوْمَ قَدِمَ أَهْلُ بَدْرٍ الْمَدِينَةَ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " وَأَجْرُكَ "، قَالَ: وَقَدِمَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ مِنَ الشَّامَ بَعْدَمَا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَدْرٍ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَهْمِهِ، فَقَالَ: " لَكَ سَهْمُكَ "، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " وَأَجْرُكَ "، وَقَدِمَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ مِنَ الشَّامِ بَعْدَ مَقْدِمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَدْرٍ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَهْمِهِ، فَقَالَ: " لَكَ سَهْمُكَ "، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " وَأَجْرُكَ " وَأَبُو لُبَابَةَ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ فَرَجَّعَهُ وَأَمَّرَهُ عَلَى الْمَدِينَةِ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ مَعَ أَصْحَابِ بَدْرٍ، وَخَوَّاتُ بْنُ جُبَيْرٍ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ الصَّفْرَاءَ فَأَصَابَ سَاقَهُ حَجَرٌ، فَرَجَعَ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، وَعَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ خَرَجَ زَعَمُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّهُ فَرَجَعَ مِنَ الرَّوْحَاءِ، فَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ كُسِرَ بِالرَّوْحَاءِ فَضَرَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ لَفْظُ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَحَدِيثُ عُرْوَةَ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ عُرْوَةَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ: رَدَّهُ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ.
حافظ ثناء اللہ

اسماعیل بن ابراہیم اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے رسول اللہ ﷺ کے غزوات کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، جو بدر میں حاضر ہوا اور جو پیچھے رہا، رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے حصہ رکھا۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پیچھے رہے تھے اپنی بیوی رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ پر اور وہ بیمار تھیں، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئیں، جس دن اہل بدر مدینہ میں آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا حصہ نکالا۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا اجر!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اجر ہے“۔ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ شام سے آئے، رسول اللہ ﷺ کے بدر سے لوٹنے کے بعد۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے حصے کے بارے میں بات کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے حصہ ہے“۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا اجر؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے بھی اجر ہے“۔ سعید بن زید رضی اللہ عنہ شام سے آئے رسول اللہ ﷺ کے بدر سے لوٹنے کے بعد، انہوں نے بھی کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا حصہ“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے حصہ ہے“، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا اجر؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا اجر بھی ہے“۔ ابولبابہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، بدر میں وہ لوٹ آئے تھے، ان کو مدینہ پر امیر مقرر کیا تھا، ان کے لیے بھی اصحابِ بدر کے ساتھ حصہ رکھا۔ خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تھے، یہاں تک کہ جب صفراء مقام پر پہنچے تو ان کی پنڈلی پر پتھر لگا وہ بھی لوٹ آئے، ان کے لیے بھی رسول اللہ ﷺ نے حصہ نکالا۔ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بھی نکلے تھے، آپ ﷺ نے انہیں لوٹا دیا، اس کے لیے بھی حصہ رکھا۔ حارث بن الصمہ رضی اللہ عنہ بھی نکلے تھے، روحاء کے مقام پر ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی، ان کے لیے بھی رسول اللہ ﷺ نے حصہ رکھا۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] کے بارے میں منقول ہے کہ انفال: غنیمتیں جو خالصتاً رسول اللہ ﷺ کے لیے تھیں، کسی کے لیے اس میں سے کچھ نہ تھا، جو بھی غزوہ مسلمانوں کو پہنچتا، وہ وہاں سے غنیمتیں لاتے تھے، جو شخص اس میں سے کوئی چیز بھی روک لیتا تھا، پس وہ خیانت تھی۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ وہ ان کو دے دیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ میرے لیے ہے، میں نے اس کو اپنے رسول ﷺ کے لیے بنا دیا ہے، تمہارے لیے اس میں کچھ نہیں ہے“۔ ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”تم اللہ سے ڈرو اور اپنی اصلاح کرو“ الی قولہ ﴿إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الأنفال: 1] پھر اللہ تعالیٰ نے نازل کیا: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41]
پھر یہ تقسیم کیا گیا کہ خمس رسول اللہ ﷺ کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، یتیموں اور مساکین اور مجاہدوں کے لیے اللہ کے راستے میں اور باقی چار حصے لوگوں کے لیے، لوگ اس میں برابر ہیں، گھوڑے کے لیے دو حصے، اس کے صاحب کے لیے ایک حصہ، پیدل چلنے والے، اسی طرح کتاب میں واقع ہے اور مجاہدین کا نام غلط ہے، بیشک وہ مسافر ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12718
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»