السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: بيان مصرف الغنيمة في ابتداء الإسلام وأنها كانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم يضعها فيمن يراه ممن شهد الوقعة وممن لم يشهدها، حتى نزل قوله عز وجل واعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل، فكان الخمس باب: ابتدائے اسلام میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان اور یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں تھا، آپ ﷺ اسے جنگ میں شریک ہونے والے اور شریک نہ ہونے والے جس شخص کے لیے مناسب سمجھتے عطا فرما دیتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا ”اور جان لو کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ، اس کے رسول، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے“ تو پھر خمس (پانچواں حصہ) مقرر ہو گیا
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَشْدَقِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ، فَلَمَّا هَزَمَهُمُ اللهُ اتَّبَعَهُمْ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُونَهُمْ، وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَةٌ بِالْعَسْكَرِ، فَلَمَّا كَفَى اللهُ الْعَدُوَّ، وَرَجَعَ الَّذِينَ قَتَلُوهُمْ قَالُوا: لَنَا النَّفْلُ؛ نَحْنُ قَتَلْنَا الْعَدُوَّ، وَبِنَا نَفَاهُمُ اللهُ وَهَزَمَهُمْ، وَقَالَ الَّذِينَ كَانُوا أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ مِنَّا، هُوَ لَنَا؛ نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَالُ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً، وَقَالَ الَّذِينَ اسْتَوْلَوْا عَلَى الْعَسْكَرِ: وَاللهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا؛ نَحْنُ اسْتَوْلَيْنَا عَلَى الْعَسْكَرِ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ} [الأنفال: ١] إِلَى قَوْلِهِ {إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} [البقرة: ٩١]، فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ عَنْ فَوَاقٍ ".سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ بدر کے دن نکلے، آپ ﷺ دشمن سے ملے۔ جب اللہ نے ان کو شکست دی تو مسلمانوں کی ایک جماعت نے ان کا پیچھا کیا، ان کو قتل کرنے لگے اور ایک جماعت نے رسول اللہ ﷺ کو گھیرے میں لے لیا اور ایک جماعت مال اکٹھا کرنے لگ گئی، جب اللہ تعالیٰ دشمن کو کافی ہو گئے اور جنہوں نے ان کو قتل کیا تھا وہ لوٹ آئے انہوں نے کہا: دشمن کو ہم نے قتل کیا لہٰذا ہمارے لیے غنیمت ہے اور ہماری وجہ سے اللہ نے ان کو شکست دی اور جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو گھیرے میں لیا تھا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو اس لیے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو گھیرے میں لیا تھا تاکہ دشمن آپ تک نہ پہنچ سکے اور ان لوگوں نے کہا جو مال کی طرف گئے تھے کہ ہم اس کے حق دار ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے آیت ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ﴾ [سورة الأنفال: 1] نازل کی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے ان میں مناسب طریقے سے تقسیم کر دیا۔