السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: بيان مصرف الغنيمة في الأمم الخالية إلى أن أحلها الله تعالى لمحمد صلى الله عليه وسلم ولأمته باب: پچھلی امتوں میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے محمد ﷺ اور آپ کی امت کے لیے حلال کر دیا
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِلْقَوْمِ: لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ قَدْ كَانَ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا، وَلَمَّا يَبْنِ، وَلَا آخَرُ قَدْ بَنَى بِنَاءً لَهُ وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا، وَلَا آخَرُ قَدِ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ وِلَادَهَا، فَغَدَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ: أَنْتِ مَأْمُورَةٌ، وَأَنَا مَأْمُورٌ، اللهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا، فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّى فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَهُ، فَقَالَ: فِيكُمْ غُلُولٌ، فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ، فَبَايَعُوهُ فَلَصَقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ: فِيكُمُ الْغُلُولُ، فَلْيُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ، فَبَايَعَتْهُ قَبِيلَتُهُ، فَلَصِقَ يَدُ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ، فَقَالَ: فِيكُمُ الْغُلُولُ، أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ، قَالَ: فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْ، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نبیوں میں سے ایک نبی نے جہاد کا ارادہ کیا، انہوں نے اپنی قوم سے کہا: وہ آدمی میرے ساتھ نہ جائے جس نے نئی شادی کی ہو اور وہ اپنی بیوی سے رات گزارنے کا ارادہ رکھتا ہو اور ابھی تک اس نے رات نہ گزاری ہو، اور وہ آدمی جس نے نیا گھر بنایا ہو اور ابھی تک اس کی چھت نہ پاٹی ہو، اور نہ وہ آدمی جس نے حاملہ بکری یا اونٹنی خریدی ہو اور اس کے بچے جننے کا انتظار کر رہا ہو، پس انہوں نے جہاد کیا اور بستی کے قریب پہنچ گئے یہاں تک کہ عصر کا وقت آگیا یا اس کے قریب، تو ان نبی نے سورج سے کہا: «إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ» ”تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں“، «اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! اسے ہم پر روک دے“، پس وہ روک دیا گیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا فرمائی، پھر انہوں نے مالِ غنیمت جمع کیا، آگ اسے کھانے کے لیے آئی لیکن اس نے اسے کھانے سے انکار کر دیا، اس نبی نے کہا: تم میں کوئی چوری کرنے والا ہے، پس ہر قبیلے کا ایک آدمی میرے ہاتھ پر بیعت کرے، انہوں نے بیعت کی تو ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا، اس نبی نے کہا: تمہارے قبیلے میں چور ہے، پس تمہارے قبیلے کا ہر فرد بیعت کرے، اس قبیلے نے بیعت کی تو دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گئے، انہوں نے کہا: تم نے چوری کی ہے، پس انہوں نے گائے کے سر کی مانند سونے کی چیز نکالی اور اسے مال میں شامل کر دیا، پھر آگ آئی اور اس نے اسے کھا لیا، پس ہم سے پہلے لوگوں کے لیے غنیمت حلال نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا اور ہمارے لیے اسے حلال قرار دیا۔“ [صحیح]