السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوديعة— امانت رکھنے اور رکھانے کا بیان
باب: لا ضمان على مؤتمن باب: امین (جس کے پاس امانت رکھی جائے) پر کوئی تاوان نہیں ہے
حدیث نمبر: 12705
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يُودَعُ الْوَدِيعَةَ، فَيُحَرِّكُهَا يَأْخُذُ بَعْضَهَا، قَالَ: كَانَ يَقُولُ: " إِذَا حَرَّكَهَا فَقَدْ ضَمِنَ ".حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں منقول ہے جسے امانت دی جائے وہ اس سے کچھ لے لے، انہوں نے کہا: جب اسے اس نے پھیرا تو وہ ضامن ہے۔