السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوديعة— امانت رکھنے اور رکھانے کا بیان
باب: لا ضمان على مؤتمن باب: امین (جس کے پاس امانت رکھی جائے) پر کوئی تاوان نہیں ہے
حدیث نمبر: 12704
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا أَبُو يُونُسَ الْقَوِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: اسْتُودِعْتُ مَالًا، فَوَضَعْتُهُ مَعَ مَالِي، فَهَلَكَ مِنْ بَيْنِ مَالِي، فَرُفِعْتُ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: " إِنَّكَ لَأَمِينٌ فِي نَفْسِي، وَلَكِنْ هَلَكَتْ مِنْ بَيْنِ مَالِكِ "، فَضَمَنْتُهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے مال امانتاً دیا گیا، پس میں نے اسے اپنے مال کے ساتھ رکھ دیا، وہ میرے مال کے ساتھ ہلاک ہو گیا، مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے کہا: میرے نزدیک تو امین ہے لیکن تجھ سے مال گم ہو گیا ہے، پس میں تجھے ضامن ٹھہراتا ہوں۔