السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوديعة— امانت رکھنے اور رکھانے کا بیان
باب: لا ضمان على مؤتمن باب: امین (جس کے پاس امانت رکھی جائے) پر کوئی تاوان نہیں ہے
حدیث نمبر: 12698
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عنْهُ " قَضَى فِي وَدِيعَةٍ كَانَتْ فِي جِرَابٍ فَضَاعَتْ مِنْ خَرْقِ الْجِرَابِ أَنْ لَا ضَمَانَ فِيهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے امانت دی گئی اس چیز کے بارے میں جو تھیلے میں تھی اور وہ گر گئی، یہ فیصلہ کیا کہ اس میں کوئی ضمانت نہیں ہے۔