السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في نزح زمزم باب: آبِ زمزم کا پانی نکالنے (خالی کرنے) کے حوالے سے وارد شدہ روایات کا بیان
حدیث نمبر: 1269
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " لَيْسَتْ عَلَى الْمَاءِ جَنَابَةٌ " قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَنَحْنُ نَرْوِي عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَوْلُنَا وَنَرْوِي عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا يَغْتَسِلُ فِي بِئْرٍ عَنْ جَنَابَةٍ وَنَرْوِي عَنْ عُمَرَ قَرِيبًا مِنْهُ وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي..حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”پانی پر ناپاکی نہیں آتی“۔ (ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارا موقف وہ ہے جو ہم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص کو کنویں میں غسل جنابت کرنے کا حکم دیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی روایت منقول ہے۔