السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: ما جاء في كتاب الوصية باب: وصیت نامہ تحریر کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12685
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا أَبُو حَيَّانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَتَبَ الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ وَصِيَّتَهُ: " {بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: ١]، هَذَا مَا أَوْصَى الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ، وَأُشْهِدُ اللهَ عَلَيْهِ، وَكَفَى بِاللهِ شَهِيدًا وَجَازِيًا لِعِبَادِهِ الصَّالِحِينَ مُثِيبًا، أَنِّي رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا، وَإِنِّي آمُرُ نَفْسِي وَمَنْ أَطَاعَنِي أَنْ يَعْبُدَ اللهَ فِي الْعَابِدِينَ، وَيَحْمَدَهُ فِي الْحَامِدِينَ، وَأَنْ يَنْصَحَ لِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ ".حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ربیع بن خثیم رحمہ اللہ نے اپنی وصیت لکھی: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» یہ ربیع بن خثیم کی وصیت ہے اور میں اس پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور وہ گواہی کے لیے کافی ہے اور وہ نیک بندوں کو ثواب کی جزا دینے والا ہے، میں اللہ کے رب ہونے پر راضی ہوں اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر اور میں اپنے آپ کو حکم دینے والا ہوں اور جس نے میری اطاعت کی کہ ہم اللہ کی عبادت کریں، بندوں میں اور اس کی حمد کریں حمد کرنے والوں میں اور تمام مسلمانوں کی خیرخواہی کریں۔