السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: ما جاء في كتاب الوصية باب: وصیت نامہ تحریر کرنے کے متعلق جو مروی ہے
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ: كَانَتْ وَصِيَّةُ ابْنِ سِيرِينَ: " ذِكْرُ مَا أَوْصَى بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ بَنِيهِ وَبَنِي أَهْلِهِ، أَنْ يَتَّقُوا اللهَ، وَيُصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَأَنْ يُطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ، وَأَوْصَاهُمْ بِمَا وَصَّى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ {يَا بَنِيَّ إِنَّ اللهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [البقرة: ١٣٢]، وَأَوْصَاهُمْ أَنْ لَا يَدَعُوا أَنْ يَكُونُوا إِخْوَانَ الْأَنْصَارِ وَمَوَالِيَهُمْ؛ فَإِنَّ الْعَفَافَ وَالصِّدْقَ أَتْقَى وَأَكْرَمُ مِنَ الزِّنَا وَالْكَذِبِ، وَأَوْصَاهُمْ فِيمَا تَرَكَ إِنْ حَدَثَ بِي حَدَثٌ قَبْلَ أَنْ أُغَيِّرَ وَصِيَّتِي ".محمد بن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی اولاد اور اپنے اہل کی اولاد کو وصیت کی کہ وہ ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ ”اللہ سے ڈریں اور اپنی اصلاح کریں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کریں، اگر وہ مومن ہیں“ [سورة الأنفال: 1] اور ان کو وہ وصیت کی جو ابراہیم نے یعقوب کو کی تھی: ﴿يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ ”اے میرے بیٹے! اللہ نے تمہارے لیے دین کو چن لیا ہے، پس تم اسلام کی حالت میں فوت ہونا“ [سورة البقرة: 132] اور ان کو وصیت کی کہ وہ نہ چھوڑ دیں کہ انصار کے بھائی ہوں اور ان کے غلام ہوں، بیشک پاکدامنی اور سچائی، زنا اور جھوٹ سے زیادہ عزت والی ہے، اور ان کو اس بارے میں وصیت کی جو چھوڑا اور اگر میری موت سے پہلے کوئی چیز رونما ہوئی تو میں وصیت بدل لوں گا۔