السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: ما جاء في الوصية للقاتل باب: قاتل کے لیے وصیت کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12652
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، وَأَبُو زَكَرِيَّا الْمُزَكِّي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو سَعِيدٍ مَسْعُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِجَازِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ لِقَاتِلٍ وَصِيَّةٌ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى عَنْ بَقِيَّةَ، تَفَرَّدَ بِهِ مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، وَهُوَ مَنْسُوبٌ إِلَى وَضْعِ الْحَدِيثِ وَإِنَّمَا ذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِتَعْرِفَ رِوَايَتَهُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قاتل کے لیے وصیت نہیں ہے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں مبشر بن عبید حمصی منفرد ہے، اور اس پر حدیث گھڑنے کا الزام ہے۔ میں نے یہ حدیث صرف اس لیے ذکر کی ہے تاکہ اس کی روایت پہچان لی جائے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔