السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: الوصية للكفار باب: کافروں کے لیے وصیت کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أُمَّ عَلْقَمَةَ مَوْلَاةَ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيِيِّ بْنِ أَخْطَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَوْصَتْ لِابْنِ أَخٍ لَهَا يَهُودِيٍّ، وَأَوْصَتْ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِأَلْفِ دِينَارٍ، وَجَعَلَتْ وَصِيَّتَهَا إِلَى ابْنٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، فَلَمَّا سَمِعَ ابْنُ أَخِيهَا أَسْلَمَ لِكَيْ يَرِثَهَا، فَلَمْ يَرِثْهَا، ⦗٤٦٠⦘ وَالْتَمَسَ مَا أَوْصَتْ لَهُ فَوَجَدَ ابْنَ عَبْدِ اللهِ قَدْ أَفْسَدَهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْها: " بُؤْسًا لَهُ، أَعْطُوهُ الْأَلْفَ الدِّينَارِ الَّتِي أَوْصَتْ لِي بِهَا عَمَّتُهُ " وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ عَنْهَا أَوْصَتْ لِنَسِيبٍ لَهَا يَهُودِيٍّ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی ام علقمہ فرماتی ہیں کہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے اپنے یہودی بھائی کے لیے وصیت کی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ایک ہزار دینار کی وصیت کی اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو مقرر کر دیا، جب صفیہ کے بھائی نے سنا تو وہ وارث بننے کے لیے مسلمان ہو گیا۔ پس وہ وارث نہ بنا۔ اس نے اس شخص کو تلاش کیا جس کے پاس وصیت تھی، پس اس نے عبداللہ کو تلاش کیا۔ انہوں نے اسے فاسد قرار دیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس کے لیے تنگ دستی ہے، اسے وہ ہزار دینار دے دو جو میرے لیے صفیہ نے وصیت کی تھی۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی بیوی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے متعلق آپ ﷺ اس بات سے راضی ہوئے کہ انہوں نے اپنی وراثت سے یہودی کے لیے وصیت کی تھی۔