کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: کافروں کے لیے وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12650
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ح وَأنا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لِأَخٍ لَهَا يَهُودِيٍّ: " أَسْلِمْ تَرِثْنِي "، فَسَمِعَ بِذَلِكَ قَوْمُهُ فَقَالُوا: أَتَبِيعُ دِينَكَ بِالدُّنْيَا، فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ، فَأَوْصَتْ لَهُ بِالثُّلُثِ.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ کی بیوی صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے اپنے ایک یہودی بھائی سے کہا: تم مسلمان ہو جاؤ، میرا وارث بن جانا۔ اس کی قوم نے یہ سنا تو انہوں نے کہا: تو اپنا دین دنیا کے بدلے بیچ دے گا، پس اس نے اسلام لانے سے انکار کردیا، صفیہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لیے «ثُلُث» کی وصیت کردی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوصايا / حدیث: 12650
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12651
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أُمَّ عَلْقَمَةَ مَوْلَاةَ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيِيِّ بْنِ أَخْطَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَوْصَتْ لِابْنِ أَخٍ لَهَا يَهُودِيٍّ، وَأَوْصَتْ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِأَلْفِ دِينَارٍ، وَجَعَلَتْ وَصِيَّتَهَا إِلَى ابْنٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، فَلَمَّا سَمِعَ ابْنُ أَخِيهَا أَسْلَمَ لِكَيْ يَرِثَهَا، فَلَمْ يَرِثْهَا، ⦗٤٦٠⦘ وَالْتَمَسَ مَا أَوْصَتْ لَهُ فَوَجَدَ ابْنَ عَبْدِ اللهِ قَدْ أَفْسَدَهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْها: " بُؤْسًا لَهُ، أَعْطُوهُ الْأَلْفَ الدِّينَارِ الَّتِي أَوْصَتْ لِي بِهَا عَمَّتُهُ " وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ عَنْهَا أَوْصَتْ لِنَسِيبٍ لَهَا يَهُودِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی ام علقمہ فرماتی ہیں کہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے اپنے یہودی بھائی کے لیے وصیت کی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ایک ہزار دینار کی وصیت کی اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو مقرر کر دیا، جب صفیہ کے بھائی نے سنا تو وہ وارث بننے کے لیے مسلمان ہو گیا۔ پس وہ وارث نہ بنا۔ اس نے اس شخص کو تلاش کیا جس کے پاس وصیت تھی، پس اس نے عبداللہ کو تلاش کیا۔ انہوں نے اسے فاسد قرار دیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس کے لیے تنگ دستی ہے، اسے وہ ہزار دینار دے دو جو میرے لیے صفیہ نے وصیت کی تھی۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی بیوی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے متعلق آپ ﷺ اس بات سے راضی ہوئے کہ انہوں نے اپنی وراثت سے یہودی کے لیے وصیت کی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوصايا / حدیث: 12651
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»