السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: من استحب ترك الوصية إذا لم يترك شيئا كثيرا استبقاء على ورثته باب: اس شخص کے بیان میں جس نے ورثاء کی خاطر مال بچانے کے لیے وصیت ترک کرنے کو مستحب قرار دیا جب وہ زیادہ مال نہ چھوڑ رہا ہو
حدیث نمبر: 12578
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا هِشَامٌ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ، لَمْ يَقُلْ: مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، وَقَالَ: فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ {إِنْ تَرَكَ خَيْرًا} [البقرة: ١٨٠]، وَإِنَّكَ إِنَّمَا تَدَعُ شَيْئًا يَسِيرًا، فَدَعْهُ لِعِيَالِكَ؛ فَإِنَّهُ أَفْضَلُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بنی ہاشم کے آدمی سے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِن تَرَكَ خَيْرًا﴾ [سورة البقرة: 180] پس تو جو چیز چھوڑے وہ اپنے اہل و عیال کے لیے چھوڑ، یہ افضل ہے۔