السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: من استحب ترك الوصية إذا لم يترك شيئا كثيرا استبقاء على ورثته باب: اس شخص کے بیان میں جس نے ورثاء کی خاطر مال بچانے کے لیے وصیت ترک کرنے کو مستحب قرار دیا جب وہ زیادہ مال نہ چھوڑ رہا ہو
حدیث نمبر: 12579
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لَهَا رَجُلٌ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُوصِيَ، قَالَتْ: " كَمْ مَالُكَ؟ " قَالَ: ثَلَاثَةُ آلَافٍ، قَالَتْ: " كَمْ عِيَالُكَ؟ " قَالَ: أَرْبَعَةٌ، فَقَالَتْ: " قَالَ اللهُ سُبْحَانَهُ {إِنْ تَرَكَ خَيْرًا} [البقرة: ١٨٠]، وَإِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يَسِيرٌ، فَاتْرُكْهُ لِعِيَالِكَ؛ فَهُوَ أَفْضَلُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان کو کہا: میں وصیت کا ارادہ رکھتا ہوں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کتنے مال کی؟ اس نے کہا: تین ہزار کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تیرا خاندان کتنا ہے؟ اس نے کہا: چار افراد ہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ فرماتے ہیں: ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا﴾ [سورة البقرة: 180] یہ تو تھوڑا سا مال ہے۔ اسے اپنے اہل کے لیے چھوڑ دے یہی افضل ہے۔