السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: من استحب ترك الوصية إذا لم يترك شيئا كثيرا استبقاء على ورثته باب: اس شخص کے بیان میں جس نے ورثاء کی خاطر مال بچانے کے لیے وصیت ترک کرنے کو مستحب قرار دیا جب وہ زیادہ مال نہ چھوڑ رہا ہو
حدیث نمبر: 12577
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ وَهُوَ مَرِيضٌ يَعُودُهُ، فَأَرَادَ أَنْ يُوصِيَ، فَنَهَاهُ وَقَالَ: " إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: {إِنْ تَرَكَ خَيْرًا} [البقرة: ١٨٠] مَالًا، فَدَعْ مَالَكَ لَوَرَثَتِكَ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ بنی ہاشم کے ایک بیمار آدمی کی عیادت کے لیے گئے۔ اس نے وصیت کا ارادہ کیا۔ آپ نے اسے منع کر دیا اور کہا: اللہ فرماتے ہیں: ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا﴾ [سورة البقرة: 180] پس اپنا مال اپنے ورثاء کے لیے چھوڑ دو۔