السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: من قال بنسخ الوصية للأقربين الذين لا يرثون وجوازها للأجنبيين باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے ان قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا کہا جو وارث نہیں ہوتے اور اجنبیوں کے لیے اس کے جواز کا قول کیا
حدیث نمبر: 12549
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَكَانَتْ دَلَالَةُ السُّنَّةِ فِي حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِيِّنَةً أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٤٣٥⦘ أَنْزَلَ عِتْقَهُمْ فِي الْمَرَضِ وَصِيَّةً، وَالَّذِي أَعْتَقَهُمْ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، وَالْعَرَبِيُّ إِنَّمَا يَمْلِكُ مَنْ لَا قَرَابَةَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ مِنَ الْعَجَمِ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمُ الْوَصِيَّةَ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الْحَدِيثُ ثَابِتٌ مِنْ جِهَةِ أَبِي الْمُهَلَّبِ وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عِمْرَانَ.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث میں دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کی آزادی کے وقت آئے۔ بیماری میں وصیت کی وجہ سے عرب کے اس شخص نے ان کو آزاد کیا تھا اور وہ عربی ان کا مالک تھا، اس کا عربوں اور عجمیوں میں کوئی رشتہ دار نہ تھا۔ نبی ﷺ نے ان کو وصیت کی اجازت دے دی۔