السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: من قال بنسخ الوصية للأقربين الذين لا يرثون وجوازها للأجنبيين باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے ان قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا کہا جو وارث نہیں ہوتے اور اجنبیوں کے لیے اس کے جواز کا قول کیا
حدیث نمبر: 12550
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِهِ سِتَّةَ أَعْبُدٍ، فَجَاءَ وَرَثَتُهُ مِنَ الْأَعْرَابِ فَأَخْبَرُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا صَنَعَ أَوْ فَعَلَ، فَقَالَ: " لَوْ عَلِمْنَا ذَلِكَ مَا صَلَّيْنَا عَلَيْهِ "، فَأَقْرَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت چھ غلام آزاد کیے، اس کے ورثاء آئے۔ انہوں نے نبی ﷺ کو اس کے فعل کی خبر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ہمیں اس بات کا علم ہوتا تو ہم اس کی نماز جنازہ نہ پڑھتے۔“ رسول اللہ ﷺ نے ان میں قرعہ ڈالا، دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام بنا دیا۔