السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: من قال بنسخ الوصية للأقربين الذين لا يرثون وجوازها للأجنبيين باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے ان قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا کہا جو وارث نہیں ہوتے اور اجنبیوں کے لیے اس کے جواز کا قول کیا
حدیث نمبر: 12548
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَكَذَلِكَ قَالَ أَكْثَرُ الْعَامَّةِ، إِلَّا أَنَّ طَاوُسًا وَقَلِيلًا مَعَهُ قَالُوا: ثَبَتَتْ لِلْقَرَابَةِ غَيْرِ الْوَارِثِينَ، فَمَنْ أَوْصَى لِغَيْرِ قَرَابَةٍ لَمْ تَجُزْ، فَوَجَدْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَكَمَ فِي سِتَّةِ مَمْلُوكِينَ كَانُوا لِرَجُلٍ لَا مَالَ لَهُ غَيْرُهُمْ فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَجَزَّأَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً ".حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح اکثر لوگوں نے کہا، سوائے طاؤس اور کچھ لوگ ان کے ساتھ اور ہیں جو کہتے ہیں: وصیت ان رشتہ داروں کے لیے ثابت ہے جو وارث نہ ہوں۔ پس جس نے غیر رشتہ دار کے لیے وصیت کی تو جائز نہیں۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو پایا، آپ نے چھ غلاموں کے بارے میں فیصلہ کیا، وہ ایک آدمی کے تھے۔ اس کے پاس ان کے علاوہ اور مال نہ تھا۔ اس نے ان کو موت کے وقت آزاد کردیا۔ نبی ﷺ نے ان کو تین حصوں میں تقسیم کردیا: ”دو غلاموں کو آزاد کردیا اور چار کو باقی رکھا۔“